<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Hasan Mujtaba, Author at Dissent Today</title>
	<atom:link href="https://dissenttoday.net/author/hasanmujtaba/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dissenttoday.net/author/hasanmujtaba/</link>
	<description>Speaking Truth to Power</description>
	<lastBuildDate>Fri, 28 Apr 2023 17:24:23 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	
	<item>
		<title>صحافی اسلم بلوچ، توہین مذہب کا الزام، سندہ  گسٹاپو پولیس اور اہل خانہ کی ہراسگی </title>
		<link>https://dissenttoday.net/urdu/%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%b2%d8%a7%d9%85%d8%8c-%d8%b3/</link>
					<comments>https://dissenttoday.net/urdu/%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%b2%d8%a7%d9%85%d8%8c-%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Hasan Mujtaba]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 28 Apr 2023 17:24:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dissenttoday.net/?p=3656</guid>

					<description><![CDATA[<p>  گذشتہ ماہ مارچ  کی بیس تاریخ کو پولیس کی بھاری نفری ڈی ایس پی، ویمن پولیس انسپیکٹر مومل لغاری کی معیت میں میرپور خاص شہر کے محلے غریب آباد کے ایک  گھر میں   بغیر کسی وارنٹ گرفتاری یا وارنٹ تلاشی کے داخل ہوئی۔   گھر پر حاملہ  خاتون شبانہ بلوچ اور اسکی عمر [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://dissenttoday.net/urdu/%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%b2%d8%a7%d9%85%d8%8c-%d8%b3/">صحافی اسلم بلوچ، توہین مذہب کا الزام، سندہ  گسٹاپو پولیس اور اہل خانہ کی ہراسگی </a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><span style="font-weight: 400;"> </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">گذشتہ ماہ مارچ  کی بیس تاریخ کو پولیس کی بھاری نفری ڈی ایس پی، ویمن پولیس انسپیکٹر مومل لغاری کی معیت میں میرپور خاص شہر کے محلے غریب آباد کے ایک  گھر میں   بغیر کسی وارنٹ گرفتاری یا وارنٹ تلاشی کے داخل ہوئی۔   گھر پر حاملہ  خاتون شبانہ بلوچ اور اسکی عمر رسیدہ ساس، چار بچیاں  موجود تھی۔ ان سے سخت بدتمیزی کی گئی۔۔ </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;"> پولیس نے گھر کے کمروں میں آلماریوں میں سے سامان ایک ایک کرکے الٹ پلٹ کر نکال کر پھینکا۔ گھر کے سامان  کی توڑ پھوڑ کی، موبائیل فون چھین لیا، اور شبانہ  بلوچ کو لے گھسیٹ کر لے  گئی۔ یہ خاتون  صحافی اسلم بلوچ کی بھابھی تھیں ۔ اسی دن صحافی اسلم بلوچ قانون توہین مذہب کے الزامات میں کٹی ایف آئی آر کا سن کر کئی گھنٹے قبل تھانے پر گرفتاری پیش کر چکا تھا۔ صحافی اسلم بلوچ پر الزام تھا کہ اس نے اپنے فیس پر  بک ایک تصویر شیئر کی تھی جس میں  ہندو مذہب کے بھگوان ہنومان پر چہرہ عمران خان کا چپکا تھا۔ </span></p>
<p>&nbsp;</p>
<p><span style="font-weight: 400;">میرپور خاص شہر اور شہر سے باہر سندہ  سمیت ملک بھر میں خاص طور، ہر خاص و عام،اور دنیا بھر میں بلوچ کمیونٹی میں جو  جو بھی صحافی اسلم بلوچ کو جانتے تھے انہیں اس بات  پر کہ  اسلم بلوچ کی  توہین مذہب کے الزام میں گرفتاری  کہ  اس نے  مبینہ  طور ہندوئوں کے بھگوان ہنومان کی توہین کی تھی، پر نہ فقط انتہائی حیرت اور دکھ بھی ہوا (جسکا اظہار سوشل میڈیا پر بھی وسیع طور پر  ردعمل میں دیکھنے میں آیا) پر اسے  ناقابل اعتبار سمجھا گیا ۔ اسلم بلوچ کی توہین مذہب کے الزام میں گرفتاری پر انتہائی حیرت اور دکھ اس لیئے بھی کہ اسلم بلوچ ایک نظریاتی سیکیولر اور وسیع العمشرب شخص تھا جو ہر مذہب عقیدے کی تقریبات اور تہواروں میں شریک ہوتا۔ دو سال قبل اسلم بلوچ کی ہندو برادری کی ہولی منانے پر پریس کلب میرپور خاص کے کچھ مذہبی انتہاپسند صحافیوں اور شہریوں کے گروہ نے انپر الزامات لگائے تھے کہ اسلم بلوچ نے ہولی کا رنگ مسلمانوں کے مقدس نام  پر پھینکا۔  اور تھانے اور پریس کلب کا گھیرائو  کیا گیا تھا جو الزام بعد میں من گھڑت ثابت ہوا تھا۔ </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">اسلم بلوچ  کا حالیہ واقعے کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ ایک پرانی تصویر تھی جو کسی اور نے  انکے نام پر فیک فیس بوک اکائونٹس پر شیئر کی تھی۔ اسلم بلوچ نے تاہم فورن اپنی طرف سے وڈیو بناکر اس میں معافی مانگی بھی مانگی تھی۔                </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">لیکن پولیس پر سندہ مین حکمران پارٹی کے ایم پی اے گیانچند ، ایم پی اے  پونجو مل اور مقامی رمیش لال مالھی  کا دبائو تھا کہ کسی بھی صورت میں اسلم بلوچ کو گرفتار کیا جائے۔ پولیس نے  اسلم بلوچ کو فون کیا تو اسلم بلوچ نے جا کر اپنی گرفتاری پیش کی۔ پولیس نے توہین مذہب کے قوانین کے تحت سیکشن 195 </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">میں سندہ کے محکمہ داخلہ کی اجازت کے بغیرایف آئی آر کاٹتے مقدمہ درج کیا ۔ سندہ میں اب یہ قانون ہے کہ توہین مذہب یا توہین برگزیدہ شخصیات  کے الزامات میں ایف آئی ار سندہ کے محکمہ داخلہ کی طرف سے  تحقیقات کے بغیر درج  نہیں کی  جا سکتی۔ </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">لیکن پولیس  صرف اسلم بلوچ  کی گرفتاری پر نہیں رکی۔ پولیس بقول اسلم بلوچ کی بھابھی شانہ بلوچ کے  بغیر کسی وارنٹ گرفتاری  سلم بلوچ کے بھائی کے گھر  میں ڈی ایس پی اور ایس یچ  او غریب آباد امتیاز جونیجو اور ویمن پولیس اسٹیش مومل لغاری کی قیادت میں گھسی۔ پولیس ڈی ایس پی بار بار کہہ رہا تھا  کہ “آئی جی لائین پر ہے۔” گھر کے سامان کی توڑ پھوڑ کی۔ پولیس نے گھر میں موجود انکی چار کمسن بیٹیوں  کو ہراساں کیا۔</span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">   شبانہ بلوچ نے ایک وڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ایک پولیس والے نے  انکی ایک کمسن  بیٹی پر رائفل  تان لی جسکی وجہ سے انکی بیٹی ابھی تک بول نہیں پا رہی۔ آلماری سے  پولیس نے پچاس ہزار نقدی بھی لوٹ کی۔ انکی وجہ پو چھنے پر بھی پولیس  نے انکو خاموش رہنے کا کہا۔ گھر کے سامان کی توڑپھوڑ کی۔ انکے کرایہ داروں کو بھی ہراساں  کیا۔ جبکہ وہ شبانہ بلوچ  پولیس سے بار بار کہہ رہی   تھے  کہ نہ ہی اسلم بلوچ انکے گھر میں موجود ہے اور نہ ہی یہ اسلم بلوچ۔ کا گھر ہے۔ اسی وڈیو بیان میں شبانہ بلوچ نے یہ بھی کہا ہے  کہ پولیس انہیں گسیٹ کر تھانے لے گئی جبک انہیں نہ دوپٹہ پہننے دیا نہ برقعہ۔ </span></p>
<div style="width: 640px;" class="wp-video"><video class="wp-video-shortcode" id="video-3656-1" width="640" height="352" preload="metadata" controls="controls"><source type="video/mp4" src="http://gator4236.temp.domains/~dissentt/wp-content/uploads/2023/04/IMG_9621.mp4?_=1" /><a href="http://gator4236.temp.domains/~dissentt/wp-content/uploads/2023/04/IMG_9621.mp4">http://gator4236.temp.domains/~dissentt/wp-content/uploads/2023/04/IMG_9621.mp4</a></video></div>
<p><span style="font-weight: 400;">“پولیس نے اس طرح کاروائی کی جیسے اس گھر میں اسامہ بن لادن چھپا تھا،” ماضی قریب تک پاکستان کے واحد بلوچ نجی نیوز چینل ‘وش’ ٹی۔وی’ کے نمائندے اسلم بلوچ نے “ڈیسینٹ ڈیلی” کو واٹس آپ پر بات  چیت کے دوران بتایا۔ </span></p>
<p>&nbsp;</p>
<p><span style="font-weight: 400;">ادھر میرپورخاص ہندو پئنچایت کمیٹی پر یہ بات آ آشکار  ہونے پر اسلم بلوچ کیخلاف  بلکل بے بنیاد الزامات  پر ایف آئی آر کٹوائی گئی  ہے،   اور دیگر ہندو زعما جن میں پاکستان مائنریٹیز کمیٹی کے چیئر مین کرشن شرما اور سابق ایم این اے کش چند پاروانی بھی شامل ہیں،   کی مداخلت پر اسلم بلوچ پر سے الزامات واپس لے لیے گئے۔  جبکہ کنزیومر افیئرز کورٹ اور جڈیشل میجسٹریٹ نے اسلم بلوچ کیخلاف توہین مذہب کا مقدمہ جھوٹا گردان کر “سی لاس” طور  خارج کردیا۔ اور اسلم بلوچ بری قرار دیے گئے۔ </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;"> اسلم بلوچ اگرچہ اب توہین مذہب کے مقدمے میں بری ہو چکے ہیں لیکن وہ اور انکے اہلیان  خانہ بھاوج، والدہ اور بھتیجیاں ابتک بہت خوفزدہ اور صدمے میں ہیں۔  اسلم بلوچ نے اس دکھ کا اظہار اس اظہار  کیا کہ سب کچھ انکے ساتھ سندہ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے موجودہ دور حکومت میں ہوا ہے اور اس پارٹی کے اقلیتی رکن اور وزیر کی طرف سے ہوا ہے جبکہ انہوں نے ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق اور ان حقوق کی تلفیوں  میں اقلیتوں  کیساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔</span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">میرپورخاص کے اکثر بلوچ اسلم بلوچ اور اسکے خاندان سمیت پاکستان پیپلزپارٹی کے قیام کے پہلے دن سے  اس پارٹی  کے حمایتی اور ووٹر رہے ہیں۔  اسلم بلوچ نے بتایا کہ “جب میں بیروزگار بھی تھا تو آصف زرادری جب جیل میں تھا تو اسکی کراچی کی عدالتوں میں ہر پیشی پر میرپور خاص سے بذریعہ ٹرین بغیر ٹکٹ سفر کر کر کراچی ان پیشیوں پر پہنچتا تھا۔ کیونکہ میں  واقعی آصف علی زرداری کو نیلسن منڈیلا سمجھتا تھا۔ ایک دفعہ میں  ٹرین میں بغیر سفر کرتے پکڑا بھی گیا تھا لیکن میرے  پاس پئسے نہ ہونے کے باوجود مجھے چھوڑ دیا گیا تھا۔”</span></p>
<p><span style="font-weight: 400;"> اسلم بلوچ قدرے  خوش نصیب نکلا لیکن اور کئی جن میں گھوٹکی کے  پروفییسر نوتن لال اور  ملتان کے پروفیسر  جنید حفیظ اتنے خوشنصیب نہیں جو توہین مذہب کے الزام میں ایک گزشتہ چار سال  عمر قید کاٹ رہے ہیں  اور دوسرے  کئی سالوں سے سزائے موت کے منتظر ہیں</span></p>
<p><span style="font-weight: 400;"> </span></p>
<div class="saboxplugin-wrap" itemtype="http://schema.org/Person" itemscope itemprop="author"><div class="saboxplugin-tab"><div class="saboxplugin-gravatar"><img decoding="async" src="https://dissenttoday.net/wp-content/uploads/2023/11/hasan-mujtaba.jpeg" width="100"  height="100" alt="" itemprop="image"></div><div class="saboxplugin-authorname"><a href="https://dissenttoday.net/author/hasanmujtaba/" class="vcard author" rel="author"><span class="fn">Hasan Mujtaba</span></a></div><div class="saboxplugin-desc"><div itemprop="description"><p>The writer is a poet and journalist in exile.</p>
</div></div><div class="clearfix"></div></div></div><p>The post <a href="https://dissenttoday.net/urdu/%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%b2%d8%a7%d9%85%d8%8c-%d8%b3/">صحافی اسلم بلوچ، توہین مذہب کا الزام، سندہ  گسٹاپو پولیس اور اہل خانہ کی ہراسگی </a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dissenttoday.net/urdu/%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%b2%d8%a7%d9%85%d8%8c-%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		<enclosure url="http://gator4236.temp.domains/~dissentt/wp-content/uploads/2023/04/IMG_9621.mp4" length="0" type="video/mp4" />

			</item>
		<item>
		<title>جی۔ایم سید: سب سے سینئر محب وطن اور غدار</title>
		<link>https://dissenttoday.net/features/%d8%ac%db%8c%db%94%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c%d8%af-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%a8-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%af%d8%a7%d8%b1/</link>
					<comments>https://dissenttoday.net/features/%d8%ac%db%8c%db%94%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c%d8%af-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%a8-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%af%d8%a7%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Hasan Mujtaba]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 12 Mar 2023 19:34:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Features]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dissenttoday.net/?p=2231</guid>

					<description><![CDATA[<p>(1904-1995)  غلام مرتضی سید باالمعروف  جی۔ ایم سید  تحریک پاکستان کے  اہم رہنما اور پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی اسی تخلیق کی ریاست کے تادم مرگ قیدی بھی تھے تو پاکستان سے سندہ کی  علحدگی پسند  تحریک کے بانی بھی۔  جدید سندھی قومپرستی کے نظریہ دان بھی۔ انہوں نے کہا تھا:“ پانچ ہزار سالہ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://dissenttoday.net/features/%d8%ac%db%8c%db%94%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c%d8%af-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%a8-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%af%d8%a7%d8%b1/">جی۔ایم سید: سب سے سینئر محب وطن اور غدار</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>(1904-1995)  غلام مرتضی سید باالمعروف  جی۔ ایم سید  تحریک پاکستان کے  اہم رہنما اور پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی اسی تخلیق کی ریاست کے تادم مرگ قیدی بھی تھے تو پاکستان سے سندہ کی  علحدگی پسند  تحریک کے بانی بھی۔  جدید سندھی قومپرستی کے نظریہ دان بھی۔ انہوں نے کہا تھا:“ پانچ ہزار سالہ پرانی سندہ مں سے پاکستان  ایک گزرتا ہوا جلوس ہے جبکہ سندہ ایک تاریخی فطری قدرتی وطن ہے اور  قائم و دائم ہے۔”</p>
<p>وہ کئی کتابوں کے مصنف ( جن میں سے کچھ کتابیں زیر بندش) تھے اور  شاید پاکستان میں وہ پہلے مصنف تھے جنکی مذاہب  عالم پر  ایک تالیف اور تصنیف شدہ کتاب “جئین ڈٹھو آہ موں” پر پابندی لگی۔ ان پر ملائوں اور پیروں و مشائخ کی طرف سے کفر کے فتوے بھی لگے۔  جی ایم سید سب سے پہلے رہنما تھے جنہوں نے مل پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کے اُبھار کی پیشنگوئی انیس سو پچاس کی دہائی میں کردی تھی۔ اور انیس سو نوے کی دہائی میں سابقہ سویت یونین ٹوٹنے کے فوری بعد اقوام متحدہ کی از سر نو تشکیل اور سرمائیدارانہ بلاک اور کمیونسٹ بلاکوں میں بٹی دنیا میں روحانی ملکوں کے بلاک قائم کرنے کی بھی بات کی تھی ان کی موت بھی طویل نظر بندی کے دوران قیدو بند کی حالت میں ہوئی۔ انکی قید و نظر بندی کے وقفہ وقفہ طویل مدتیں نیلسن مانڈیلا کی معیاد قید سے بھی زیادہ تھیں۔ یہ ”اعزاز‘‘ بھی بنظیر بھٹو کی حکومت کو جاتا ہے کہ جس نے باوجود اپیلوں کے جناح اسپتال کراچی میں بستر مرگ پر پڑے چورانوے سالہ علیل اسیر کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ </p>
<p>اسی طرح جی ایم سید جو آخری بار نوازشریف حکومت میں جنوری انیس سو بانوے  میں نظربند کر دیئے گئے وہ اپریل1995ء تک تادم مرگ نظربند رہے۔</p>
<p> دوران نظربندی انہوں نے تصنیف و تحقیق کا کام جاری رکھا اور تقریباً ساٹھ کتابیں تصنیف کیں۔ انیس سو سڑسٹھ میں اپنی نظربندی کے دوران اپنے دوستوں ساتھیوں اور واقف کاروں پر اپنی تصنیف’’جنب گذرایم جن سیں‘‘ (جنکے ساتھ عمر گزاری میں نے) میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں:’’ مارشل لا کا نفاذ ہوا تو پھر قید و نظربندی کا قرعہ فال میرے نام نکلا، نہ میں نے اسمگلنگ کی تھی اور نہ عہدوں کا طلبگار رہا تھا نہ پرمٹ لیکر املاک میں اضافہ کیا تھا، نہ ہی وطن سے غداری کی تھی اور نہ ہی میں پاکستان کا مخالف رہا تھا بلکہ ایک حد تک تو اس کے (پاکستان کے) قیام میں میرا خاص ہاتھ رہا تھا، سندھ اسمبلی میں پاکستان کی قرارداد میں نے ہی منظور کرائی تھی، سندھ میں مسلم لیگ کی تحریک کو زور پکڑوانے میں بھی جتنا میرا بس چلتا تھا ہر کوشش کی تھی، اس کے باوجود بھی مجھے ساڑھے سات سالوں تک نظربند کردیا گیا، اس کیلئے میرا کوئی اور قصور تو نہ تھا ماسوائے اس کے کہ میں ون یونٹ کا مخالف تھا، میں سندھ کے حقوق کی حفاظت کا حامی تھا۔</p>
<p> اس کا غیروں کو پتہ گر نہیں بھی تھا مگر اپنوں کو تو تھا&#8221; یعنی غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی دیوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری۔&#8221;قبل تقسیم سندہ میں ایک سیاسی رہنما اور بعد میں آل انڈیا مسلم لیگ سندہ کے صدر کی حیثیت میں جی ایم سید انتہائی مقبول تھے۔ جب انہوں نے  عبداللہ ہارون کے ہمراہ  محمد علی جناح کا جلسہ نیپئر روڈ پر منعقد کیا تو سندہ میں  لوگ مسٹر جناح کو بہت کم جانتے تھے جتنا جی ایم سید اور عبداللہ ہارون کو جانتے تھے۔ یہ بات مجھے لیاری  کراچی میں بلوچ تاریخدان یوسف نسقندی نے  ہندوستان کی  تقسیم  اور پاکستان ہندوستان دو الگ ملک بننے کے پچاس برس مکل ہونے یا انکی گولڈن جوبلی کے موقع پر ایک انٹرویو کے دوران بتائی تھی۔ انہی دنوں وہ مسجد منزل گاہ سکھر میں ہندو مسلم بلوے  کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ دوسرے تھے ایوب کھڑو،شاید  علی محمد راشدی بھی۔ یہ تنازع سکھر کے سادھو بیلو میں ایک مندر پر شروع ہوا تھا جس میں مسلمانوں کا دعوا تھا کہ یہ مسجد ہے جبکہ ہندوئوں کا دعوا تھا یہ مندر کی جگہ تھی۔ سینکڑوں  ہندو قتل ہوئے تھے اور ایوب کھوڑو سمیت کئی سینکڑوں مسلمان گرفتار ہوئے تھے۔ ایوب کھوڑو  کی گرفتاری کے بعد مسجد منزل گاہ ایجیٹیشن  کی سربراہی جی ایم سید نے سنبھالی تھی۔ مسجد منزل گاہ فسادات عام طور  صوفی مزاج  والے سندہ میں ہندو مسلم نفاق اور فرقہ واریت کی ایک طرح سنگ بنیاد تھے۔</p>
<p> جی۔ایم سید بہرحال ساری عمر مسجد منزل گاہ اور قیام پاکستان میں اپنے کردار پر نادم رہے اور اسے اپنا گناہ عظیم سمجھتے رہے اور بارہا اسکا کھلے عام اعتراف  بھی کرتے رہے تھے۔       یہ وہی جی ایم سید تھے جو پاکستان کے بانی کے قتل کی افواہیں سن کر دھاڑیں مار کر روئے تھے۔ غلام مرتضی سید نے برصغیر مییں سب سے پہلے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کی قرارداد سندھ اسمبلی میں اکثریت سے منظور کروائی تھی۔انہوں نے اپنی سیاست کا تمام محور و قبلہ سندھ کو بنایا اور مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد تیئس مارچ انیس سو تہتر کو انہوں نے’’سندھو دیش‘‘ کا نعرہ لگایا۔ انہوں  نے اپنے تصور سندھو دیش پہ  ایک کتاب “سندھودیش  چھو آئیں چھا لائی” ( سندھو دیش کیوں اور کس لیے ؟) تحریر کی جسکا انگریزی  میں بھی ترجمہ “سندھو دیش: اے نیشن ان چین” کے نام سے ہوا ہے</p>
<div class="saboxplugin-wrap" itemtype="http://schema.org/Person" itemscope itemprop="author"><div class="saboxplugin-tab"><div class="saboxplugin-gravatar"><img decoding="async" src="https://dissenttoday.net/wp-content/uploads/2023/11/hasan-mujtaba.jpeg" width="100"  height="100" alt="" itemprop="image"></div><div class="saboxplugin-authorname"><a href="https://dissenttoday.net/author/hasanmujtaba/" class="vcard author" rel="author"><span class="fn">Hasan Mujtaba</span></a></div><div class="saboxplugin-desc"><div itemprop="description"><p>The writer is a poet and journalist in exile.</p>
</div></div><div class="clearfix"></div></div></div><p>The post <a href="https://dissenttoday.net/features/%d8%ac%db%8c%db%94%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c%d8%af-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%a8-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%af%d8%a7%d8%b1/">جی۔ایم سید: سب سے سینئر محب وطن اور غدار</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dissenttoday.net/features/%d8%ac%db%8c%db%94%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c%d8%af-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%a8-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%af%d8%a7%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کی بہادر افوج کی &#8216;بہادری&#8217; اور ماجد حیدری   جیسے نہتے شہریوں کی  گمشدگیاں</title>
		<link>https://dissenttoday.net/opinion/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7/</link>
					<comments>https://dissenttoday.net/opinion/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Hasan Mujtaba]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 24 Feb 2023 12:25:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Opinion]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dissenttoday.net/?p=1849</guid>

					<description><![CDATA[<p>دو ہزار پانچ سے پاکستان کی بہادر افواج اور اسکی انٹیلیجنس ایجنسیوں اور آئی ایس آئی نے سندہ کے سینکڑوں نوجوان غائب کیے ہیں، غائب کرکے انپر بہیمانہ تشدد کیا ہے، اپنی تحویل میں بذریعہ انکو تشدد قتل کیے ہیں۔ افوج پاکستان اور اسکی ایجینسیاں بہادر اتنی کہ آج تک اعتراف تک نہیں کیا کہ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://dissenttoday.net/opinion/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7/">پاکستان کی بہادر افوج کی &#8216;بہادری&#8217; اور ماجد حیدری   جیسے نہتے شہریوں کی  گمشدگیاں</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>دو ہزار پانچ سے  پاکستان کی بہادر افواج اور اسکی انٹیلیجنس ایجنسیوں اور آئی ایس آئی<br />
 نے سندہ کے سینکڑوں  نوجوان غائب کیے ہیں، غائب کرکے  انپر بہیمانہ  تشدد کیا ہے،  اپنی تحویل میں بذریعہ انکو تشدد قتل  کیے ہیں۔ افوج پاکستان اور اسکی ایجینسیاں بہادر اتنی کہ آج تک اعتراف تک نہیں  کیا کہ ان سینکڑوں افرا کو انہوں نے ہی اغوا کیا ہے۔ اور نہ ہی ان میں غائبشدگان میں  سے ایک پر بھی کسی عدالت میں کوئی جرم ثابت ہوا ہے اور نہ ہی کسی عدالت میں انکو پیش بھی کیا گیا ہے۔ تاحال پاکستان کے  ان مغوی شہریوں  میں اٹھارہ سال سے کم عمر نوجوانوں سے لیکر نوجوان ، بوڑہے ، پیشے کے لحاظ سے اساتذہ، پروفیسر،ڈاکٹرز، انجینیئر، ادیب، شاعر، پبلشر،صحافی، سیاسی و سماجی کارکن شامل ہیں۔ ان میں کئی اپنی  نسل کے بہترین دماغ ہیں، تھے۔ </p>
<p>گمشدگیوں کا تازہ شکار  انجنئر ماجد حیدری ہے۔ ماجد حیدری عراق اور دبئی میں اپنی انجینیئرنگ کی  خدمات سرانجام دے چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں محض تارک وطن سندھیوں کی سماجی خدمات میں مصروف  رہا تھا۔  ماجد کو  کراچی سے اٹھا کر غائب کردیا گیا ہے۔ </p>
<p>2005 سے آجتک جتنے بھی سندھی نوجوان اٹھا کر غائب کردے گئے ہیں،قومی خزانے سے کروڑہا روپے ان ویگو سوار اجل کے  بے وردی وردی پوش فرشتوں پر  خرچ کیے  جا رہے ہیں۔ کن کا خیال ہے ہر جی او سی کے صوابدید پر ایک  بجٹ ہوتا ہے “اینٹی اسٹیٹ عناصر” کی سرکوبی کے نام پر یہ  بجٹ ہضم کر نے کو زیادہ تر بیگنہہ نوجوان اٹھائے جار ہے ہیں۔ویسے گھر کی بات  گھر میں تو  کی جاسکتی ہے نہ، جرنیلوں کرنیلوں سے زیادہ کون ملک مخالف قوتیں ہو سکتی ہیں؟</p>
<p>ان گمشدگان سے کیا اعترافات ہوئے؟ اسکی بنیاد پر دفاعی حکمت عملی اور پالیسی میں کیا تبدیلیاں لائی گئی؟ کن کو سزائیں ہوئیں ؟ صفر پلس صفر ۔کیوں کہ  یہ سب جھوٹ  اور ریاستی دہشتگری کا کاروبار ہے۔ سندہ کے عوام میں خوف و دہشت کی فضا قائم  رکھ کر حکمرانی  قائم رکھنی ہے کہ وہاں ساری حکمرانی  کرنلوں کے ہاتھوں  میں ہے۔</p>
<p>اب بہت  ہو چکی۔  فوج، انجینئر ماجد حیدری سمیت تمام گمشدگان فوری رہا کرو۔ گمشدگییوں   کے دوران قتل ہونیوالوں،  تشدد کے دوران  معذور ہونیوالوں، تشدد میں ذہنی توازن کھو بیٹھنےوالوں  کے خاندانوں   کو معاوضہ جات ادا کریں۔  جبری یا غیر رضاکارانہ نفاذی گمشدگیاں اغوا کا سنگین  جرم ہے اور ان جرائم میں ملوث افسروں اور سپاہیوں کو گرفتار کیا جائے مقدمے چلا کر سزائیں دی جائیں۔ ۔ دیر یا سویر۔ یہ حساب تو ہونا ہے۔ کیونکہ تم کتنے بھی طاقتور اور با اختیار ہو  تمہارے جنازے بند کمروں میں  چھپ کر ر پڑہے جاتے رہیں گے۔ مشرف کے انجام سے  عبرت حاصل کرو۔ ملک تمہارے ایسے انسانیت کے خلاف جرائم کی وجوہات پر “غائبستان” بنا ہوا ہے۔ انٹیلجنس ریپبلک آف غائبستان۔</p>
<div class="saboxplugin-wrap" itemtype="http://schema.org/Person" itemscope itemprop="author"><div class="saboxplugin-tab"><div class="saboxplugin-gravatar"><img decoding="async" src="https://dissenttoday.net/wp-content/uploads/2023/11/hasan-mujtaba.jpeg" width="100"  height="100" alt="" itemprop="image"></div><div class="saboxplugin-authorname"><a href="https://dissenttoday.net/author/hasanmujtaba/" class="vcard author" rel="author"><span class="fn">Hasan Mujtaba</span></a></div><div class="saboxplugin-desc"><div itemprop="description"><p>The writer is a poet and journalist in exile.</p>
</div></div><div class="clearfix"></div></div></div><p>The post <a href="https://dissenttoday.net/opinion/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7/">پاکستان کی بہادر افوج کی &#8216;بہادری&#8217; اور ماجد حیدری   جیسے نہتے شہریوں کی  گمشدگیاں</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dissenttoday.net/opinion/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
