<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Urdu Archives - Dissent Today</title>
	<atom:link href="https://dissenttoday.net/category/urdu/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dissenttoday.net/category/urdu/</link>
	<description>Speaking Truth to Power</description>
	<lastBuildDate>Sun, 03 Dec 2023 05:56:14 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	
	<item>
		<title>بلوچ وائس فار جسٹس کا ماورائے عدالت قتل کے حالیہ واقعات کے خلاف اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کو خط</title>
		<link>https://dissenttoday.net/urdu/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b3-%d9%81%d8%a7%d8%b1-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%82%d8%aa%d9%84/</link>
					<comments>https://dissenttoday.net/urdu/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b3-%d9%81%d8%a7%d8%b1-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%82%d8%aa%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[News Desk]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 03 Dec 2023 05:56:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<category><![CDATA[missing persons in pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[بالاچ بلوچ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dissenttoday.net/?p=8248</guid>

					<description><![CDATA[<p>بلوچ وائس فار جسٹس نے تربت میں بالاچ بلوچ سمیت چار نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں ماورائے عدالت قتل کرنے سمیت حالیہ واقعات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور یورپی پارلیمنٹ کو خطوط لکھ کر جعلی مقابلے جیسے انسانیت سوز واقعات کی تدارک کے لئے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://dissenttoday.net/urdu/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b3-%d9%81%d8%a7%d8%b1-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%82%d8%aa%d9%84/">بلوچ وائس فار جسٹس کا ماورائے عدالت قتل کے حالیہ واقعات کے خلاف اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کو خط</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div>بلوچ وائس فار جسٹس نے تربت میں بالاچ بلوچ سمیت چار نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں ماورائے عدالت قتل کرنے سمیت حالیہ واقعات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور یورپی پارلیمنٹ کو خطوط لکھ کر جعلی مقابلے جیسے انسانیت سوز واقعات کی تدارک کے لئے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔</div>
<div></div>
<div>کہا گیا ہے کہ ہمیں پختہ یقین ہے کہ یہ معزز تنظیمیں ان مظالم کی طرف توجہ دلانے اور معصوم جانوں کے مزید نقصان کو روکنے کے حوالے سے فوری کارروائی کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرینگی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ وائس فار جسٹس ایک انسانی حقوق تنظیم ہے جو بلوچستان میں جبری لاپتہ افراد کی بازیابی، انسانی حقوق اور انصاف کی وکالت کے لئے پرعزم ہے۔ ہم بلوچستان کے علاقے تربت میں ماورائے عدالت قتل عام میں خطرناک حد تک اضافے اور اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی مداخلت کی فوری ضرورت محسوس کرتے ہیں عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی فوج کی ظلم و بربریت کو روکنے کے لئے کردار ادا کریں۔</div>
<div></div>
<div>انہوں نے کہا کہ خط میں لکھا گیا ہے کہ بلوچستان، انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے دوچار خطہ، حالیہ مہینوں میں ماورائے عدالت قتل کی ایک پریشان کن تعداد سامنے آئی ہے۔ سفاکیت کی یہ کارروائیاں نہ صرف افراد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں بلکہ انصاف کے عقائد اور قانون کی حکمرانی کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچ وائس فار جسٹس نے ان اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تربت، بلوچستان میں رپورٹ کردہ ماورائے عدالت قتل کی مکمل تحقیقات کریں، تاکہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے احتساب اور انصاف کو یقینی بنایا جا سکے۔ عوامی بیانات، رپورٹس</div>
<div></div>
<div>اور پریس ریلیز کے ذریعے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں عالمی سطح پر بیداری پیدا کریں۔ ماورائے عدالت قتل کو روکنے اور انسانی حقوق اور انصاف کے اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے بلوچستان میں متعلقہ حکام پر دباؤ ڈالنے کے لیے سفارتی کوششیں کریں۔ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر صورتحال کی قریب سے نگرانی کریں اور متاثرہ کمیونٹیز کو مدد فراہم کریں۔ فوری اور پر زور اقدام اٹھا کر، ہم اجتماعی طور پر تشدد کے دور کو ختم کرنے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کام کر سکتے ہیں۔</div>
<div></div>
<div>ہمیں پختہ یقین ہے کہ آپ کی توجہ متاثرین کو انصاف دلانے اور معصوم جانوں کے مزید نقصان کو روکنے میں ایک اہم فرق لائے گی۔ ہم اس فوری معاملے پر آپ کی توجہ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور آپ کے جواب کا بے تابی سے انتظار ہے۔ آئیے مل کر ایک ایسی دنیا کے لیے جدوجہد کریں جہاں انصاف اور انسانی حقوق کی بالادستی ہو۔</div>
<div class="yj6qo"></div>
<div class="adL"></div>
<div class="saboxplugin-wrap" itemtype="http://schema.org/Person" itemscope itemprop="author"><div class="saboxplugin-tab"><div class="saboxplugin-gravatar"><img decoding="async" src="https://dissenttoday.net/wp-content/uploads/2023/11/IqXH851P_400x400-2.jpg" width="100"  height="100" alt="" itemprop="image"></div><div class="saboxplugin-authorname"><a href="https://dissenttoday.net/author/news-desk/" class="vcard author" rel="author"><span class="fn">News Desk</span></a></div><div class="saboxplugin-desc"><div itemprop="description"></div></div><div class="saboxplugin-web "><a href="https://dissenttoday.net" target="_self" >dissenttoday.net</a></div><div class="clearfix"></div></div></div><p>The post <a href="https://dissenttoday.net/urdu/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b3-%d9%81%d8%a7%d8%b1-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%82%d8%aa%d9%84/">بلوچ وائس فار جسٹس کا ماورائے عدالت قتل کے حالیہ واقعات کے خلاف اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کو خط</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dissenttoday.net/urdu/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b3-%d9%81%d8%a7%d8%b1-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%82%d8%aa%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایک بیٹی کی فریاد</title>
		<link>https://dissenttoday.net/urdu/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%af/</link>
					<comments>https://dissenttoday.net/urdu/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Saeeda Hameed]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 10 Jul 2023 07:00:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dissenttoday.net/?p=4474</guid>

					<description><![CDATA[<p>10 اپریل 2021 کو میرے والد کو مسلح اہلکار ہماری آنکھوں کے سامنے اٹھا کر لے گئے تھے۔ اس دن سے اب تک نہ ہمارے گھر میں کسی کی سالگرہ منائی گئی اور نہ کسی کے ساتھ تحفے تحائف کا تبادلہ ہوا۔ بہت سے بچوں کو اپنے والد کے ساتھ گاڑی یا موٹر سائیکل پر [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://dissenttoday.net/urdu/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%af/">ایک بیٹی کی فریاد</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="p1" dir="rtl"><span class="s1">10 </span>اپریل<span class="s1"> 2021 کو</span> میرے والد کو مسلح اہلکار ہماری آنکھوں کے سامنے اٹھا کر لے گئے تھے۔ اس دن سے اب تک نہ ہمارے گھر میں کسی کی سالگرہ منائی گئی اور نہ کسی کے ساتھ تحفے تحائف کا تبادلہ ہوا۔</p>
<p class="p1" dir="rtl">بہت سے بچوں کو اپنے والد کے ساتھ گاڑی یا موٹر سائیکل پر بیٹھے دیکھتی ہوں تو رشک آتا ہے کہ دو سال پہلے ہماری بھی ایک زندگی تھی- ہماری زندگی کو گن پوائنٹ پر ہائی جیک کیا گیا۔<span class="s1"><span class="Apple-converted-space">  </span></span>ہماری زندگی اب مسلح اہلکاروں کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ ہم مسکراتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے جیسے ہم بڑے جرم کے مرتکب ہورہے ہیں اور اسکے لیے بھی خود کو سزا وار سمجھتے ہیں ۔</p>
<p class="p1" dir="rtl">والدہ اکثر بیمار رہتی ہیں اور انکا زیادہ وقت بستر پر گزرتا ہے۔ بہن بھائیوں کی دیکھ بال کی زمہ داری مجھ پر ہے جو خود اپنی زمہ داری نہیں اٹھا سکتی ۔<span class="s1"><span class="Apple-converted-space">  </span></span>راتوں کو دیر تک دروازے کی طرف آنکھیں کرکے بیٹھ جاتی ہوں کہ شاید اغوا کاروں کو ہم پر ترس آجائے اور میرے بابا کو چھوڑ دیں۔ میرے پاس اپنے بہن بھائیوں کو جھوٹی تسلی دینے کے لیے  کچھ بھی کہنے کو نہیں ہوتا<span class="s1"> !</span></p>
<p class="p1" dir="rtl">چھوٹی بہن<span class="s1"><span class="Apple-converted-space">  </span></span>مہروز جس نے اپنے والد کو دیکھا بھی نہیں ہے اپنے عمر سے بھی بڑے سوالات کرتی ہے۔ دن رات بابا کے بارے میں بات کرتی ہے۔ بڑبڑاتے ہوئے نجانے کیا کیا کہتی ہے ۔ حمل کو ان دو سالوں میں ایک بار بھی مسکراتے نہیں دیکھا۔ وہ بات بھی نہیں کرتا جیسے دیمک کسی درخت کو کھا جاتی ہے۔ حمل کا غم اسے اندر سے ہی کھائے جا رہا ہے۔  ہمارے گھر میں کوئی کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھاتا یہ سوچ کر کہ پتا نہیں ابو نے کھانا کھایا ہوگا یا نہیں۔</p>
<p class="p1" dir="rtl">ہم زندہ لاش ہو کر رہ گئے ہیں۔ اگر آپ نے اپنی زندگی میں زندہ لاشوں کے بارے میں صرف سنا ہے<strong> دیکھا</strong> نہیں ہے تو آئیں ہمیں دیکھیں کہ کیسے ہم اس زندگی کا بوجھ والد کے بغیر  اپنے کندھوں پر رکھ کر اٹھا رہے ہیں کھبی کھبی گھٹن ہوتی ہے آس پاس کے لوگوں کے ہجموم سے<span class="s1"> ! <span class="Apple-converted-space"> </span></span></p>
<p class="p1" dir="rtl">اور یہ سوچ کر اور زیادہ تکلیف ہوتی ہے کہ ہمارے ساتھ کیوں ایسا ہورہا ہے ؟<span class="s1"><span class="Apple-converted-space"> </span></span></p>
<p class="p1" dir="rtl">مقتدرہ حکمران جماعتوں کے سینے میں دل نہیں ہے ؟<span class="s1"> <span class="Apple-converted-space"> </span></span></p>
<p class="p1" dir="rtl">انکے اپنے بچے نہیں ہیں ؟</p>
<p class="p1" dir="rtl"><span class="s1"><span class="Apple-converted-space"> </span></span>انھیں ہم کیوں نظر نہیں آتے&#8211; وہ ہماری کیوں نہیں سنتے ؟<span class="s1"><span class="Apple-converted-space"> </span></span></p>
<p class="p1" dir="rtl">کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں ؟<span class="s1"><span class="Apple-converted-space"> </span></span></p>
<p class="p1" dir="rtl">کیا ہمیں ہنسی خوشی پرامن زندگی گزارنے کا حق نہیں ہے ؟<span class="s1"><span class="Apple-converted-space"> </span></span></p>
<p class="p1" dir="rtl">ایسے سوالات روزانہ دماغ میں ہلچل مچاتے ہیں جیسے دماغ کی شریان پھٹنے کو ہو، نیند میں بھی ڈراؤنے خواب وہاں بھی پریس کلب کے سامنے روتے ہوئے نظر آتے ہیں اپنا دکھ اپنی والدہ کا دکھ بہن بھائیوں کی اداس آنکھیں مجھ سے تو کم از کم دیکھے نہیں جاتے<span class="s1"><span class="Apple-converted-space">  </span></span>اور اس بات پر اور زیادہ تکلیف ہوتی ہے کہ میرے بابا کا کسی چیز سے کوئی تعلق نہیں تھا اگر وہ مجرم ہوتا تو دو سال میں اسکا جرم<span class="s1"><span class="Apple-converted-space">  </span></span>ثابت کرکے اسے عدالت میں پیش کیا جاتا مگر ایسا بھی نہیں ہوا ہے ابتک ، پڑھائی ہماری متاثر ہوچکی ہے ہم میں سے بہن بھائی چاہ کر بھی کوشش کے باوجود اپنا زہن<span class="s1"><span class="Apple-converted-space">  </span></span>پڑھائی کی طرف نہیں لے جاپارہے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے اپنے گھر کی خوشیاں ماتم میں بدلتی دیکھیں ہیں ہمارے گھر میں جیسے روز ماتم کا منظر ہوتا ہے والدہ کے چہرے کی زردی بالوں میں سفیدی سے بھی خوف انے لگا ہے ،حمل کا مرجھایا چہرہ بھی تکلیف دیتا ہے ، مہروز کے سوالوں کے جواب سچ میں میرے پاس نہیں ہیں ، اس لیے احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوتی ہوں تاکہ وہ جواب حکمرانوں سے مل جائیں مگر انھیں ہماری زندگی سے کوئی سروکار نہیں ۔</p>
<p class="p1" dir="rtl">ہمیں تو یہ ریاست اب وہ ہوٹل<span class="s1"> <span class="Apple-converted-space">  </span></span>لگگنے لگا ہے جہاں داخل ہوتے ہیں موٹے موٹے الفاظ میں لکھا ہوتا ہے<span class="s1">&#8221; </span>اپنے قیمتی اشیاء کی حفاظت خود کریں<span class="s1"> &#8220;</span>۔<span class="s1"><span class="Apple-converted-space"> </span></span></p>
<p class="p1" dir="rtl">میں ایک بار پھر مقتدر قوتوں سے اس ملک کے سیاہ سفید کے مالکوں سے اپیل کرتی ہوں کہ ہمیں ہماری خوشیاں لوٹا دیں تاکہ ہم اپنی پرانی زندگی میں دوبارہ گزارسکیں ،<span class="s1"><span class="Apple-converted-space">  </span></span>یہ درد ناقابل برداشت ہے یہ ازیت شاہد ہم اور نہ سہہ سکیں ۔ میرے ابو کو اٹھانے والے بھی بال بچوں والے ہونگے اگر انکے بچے ایک ہفتہ اپنے والد کو نہ دیکھیں تو ان پر کیا کفیت طاری ہوسکتی ہے انسان کو انسان سے محبت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے انسان کے ہاتھوں انسان کونگلنے کے لیے<span class="s1"> ! </span>ہمارے گھر میں انہتائی ازیت ناک حالات ہیں<span class="s1"><span class="Apple-converted-space">  </span></span>جہاں گھر کا واحد کفیل گزشتہ دو سالوں سے جبری گمشدگی کا شکار ہے اسکے بچے دو سال سے پریس کلبز کے سامنے پرامن احتجاج کرکے اپنے بابا کی رہائی کی اپیل کررہے ہیں انسان اتنا سنگ دل نہیں ہوسکتا کہ اسے دوسرے انسان کی فریاد سنائی نہ دے ۔</p>
<p class="p1" dir="rtl">اگر ہمارے بابا مجرم ہوتے تو شاید یہ دکھ اور تکلیف اور ازیت کم ہوتا مگر ہمیں پتا ہے اور جبری لاپتہ کرنے والوں کو بھی پتا ہے کہ عبدالحمید زہری بے گناہ ہے وہ ہمیں بہتر مستقبل دینے کے لیے جنگ زدہ علاقے سے ہمیں کراچی کی طرف لائے تھے تاکہ ہمیں بہتر زندگی اور تعلیم دے سکے مگر کراچی کی روشنیوں نے ہماری زندگی میں اندھیرا کردیا اس گھٹن زدہ ماحول میں دم گھٹتا ہے اور والد کے بغیر جو واحد گھر کا کفیل ہے زندگی کرنے کا تصویر بھی نہیں کرسکتے<span class="s1"><span class="Apple-converted-space">  </span></span>تھے۔</p>
<p class="p1" dir="rtl">مہروز<span class="s1"><span class="Apple-converted-space">  </span></span>اور حمل کو انکا بابا واپس لوٹا دیں<span class="s1">!<span class="Apple-converted-space"> </span></span></p>
<p class="p1" dir="rtl"><span class="s1"><span class="Apple-converted-space"> </span></span>وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ہمیں کوئٹہ دھرنے میں یقین دلایا تھا کہ میرے بابا سمیت تمام لاپتہ افراد کا مسلہ حل کیا جائے مریم نواز شریف صاحبہ جب اپوزیشن میں تھی تب بھی انہوں وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آتے ہی یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کیا جائے گا۔ سابق وزیر اعظیم عمران خان اور موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نواز شریف بھی پہلے کئی بار یہ باتیں دہرا چکے ہیں مگر یہ صرف سیاسی بیانات کی حد تک تھے ۔</p>
<p class="p1" dir="rtl">میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے تمام انسان دوستوں سے اپیل کرتی ہوں میرے بابا کو بازیاب کرایا جائے تاکہ ہم سکون سے سانس لے سکیں ااور اپنی مامول کی زندگی میں واپس لوٹ سکیں۔</p>
<p class="p1" dir="rtl">میرے بابا عبدالحمید زہری کی بازیابی میں اپنا حقیقی کردار ادا کریں<span class="s1"><span class="Apple-converted-space">  </span></span>تاکہ ہم بھی اپنی تعلیم پر توجہ دے سکیں اور ہم سے یہ حق نہ چھینا جائے- مہروز اور حمل سے انکا بچپن خدارا نہ چھینا جائے- انھیں بھی دوسرے بچوں کی طرح اپنا بچپن جینے کی آزادی دی جائے تاکہ وہ بھی اپنا بچپن پریس کلب کے بجائے اپنے ہم عمروں کے ساتھ کھیل کود میں گزاریں<span class="s1"><span class="Apple-converted-space"> </span></span></p>
<p class="p1" dir="rtl">تاکہ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح نارمل زندگی گزار سکیں ، ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ایک گھر میں ماتم ہو اور حکمران اپنے گھروں میں جشن کا سماں باندھیں ،لوگوں کو جبری گمشدہ کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ ریاست کا آئین اور قانون کچھ اور کہتا ہے یہ اپنا قانون آپ لوگ کہاں سے لائے ہو ؟</p>
<p class="p1" dir="rtl"><span class="s1"><span class="Apple-converted-space"> </span></span>شہریوں کو اغوا کرکے سالوں سال انکے اہلخانہ کو ازیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور کردیا جاتا ہے ، لوگ کس قانون کے تحت اٹھائے جاتے ہیں ؟</p>
<p class="p1" dir="rtl"><span class="s1"><span class="Apple-converted-space"> </span></span>جب تک ریاست اپنے اداروں سے یہ سولات پوچھنے کے قابل نہیں ہوتی تو اسی طرح میری چھوٹی بہن مہروز جیسے بچوں کا بچپن پریس کلب اور سڑکوں پر گزرتا رہے گا-</p>
<p class="p1" dir="rtl">بجائے ہمیں ریاست سے بد زن کرنے کے ہمیں سنا جائے اور ہمارے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کوئی قانون توڑتا ہے تو انصاف اور سزا کے لیے عدالتیں پہلے سے قائم ہیں انھیں عدالت میں پیش کرکے قرار واقعی سزا دی جائے ۔</p>
<p class="p1" dir="rtl">میرے والد کی جبری گمشدگی کو<span class="s1"> 26 </span>مہینے گزر چکے ہیں ان مہینوں میں ہماری زندگی میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں ہے روز اس امید کے ساتھ گزارتے ہیں اب نہیں تو ابھی میرے والد آجائیں گے ، ان سے لپٹ کر خوب روئیں گے ا، س سے ازیت گاہ میں گزرنے والی باتیں بھی نہیں پوچھیں گے،<span class="s1"><span class="Apple-converted-space">  </span></span>یہ لمحات ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے مٹانا چاہتے ہیں تاکہ دوبارہ چاہ کر بھی ان بے بسی کے دنوں کو یاد کرکے خود کو تکلیف نہ دیں ۔</p>
<p class="p1" dir="rtl">ہمیں اپنے بابا واپس چاھییں ہر حال میں چاھییں, ہمارے گھر کے وہ واحد کفیل تھے- انکے بعد ہماری زندگی خانہ بدشوں کی طرح ہوگئی ہے کھبی اس شہر تو کھبی اس شہر۔ خانہ بدوش پھر بھی موسمی تبدیلوں کی وجہ سے اپنی خواہش کے مطابق زندگی کرتے ہیں ۔ہم یہ زندگی نہیں چاہتے۔ ہمیں اپنی<span class="s1"> 10 </span>اپریل<span class="s1"> 2021</span>سے پہلے والی زندگی چاہے اور امید کرتی ہوں ارباب اقتدار ایک بیٹی کی فریاد<span class="s1"><span class="Apple-converted-space"> </span></span> ٖضرور سنیں گے۔</p>
<div class="saboxplugin-wrap" itemtype="http://schema.org/Person" itemscope itemprop="author"><div class="saboxplugin-tab"><div class="saboxplugin-gravatar"><img alt='Saeeda Hameed' src='https://secure.gravatar.com/avatar/82c981f1bcba842ca501873ac8e51efbfeea6b761a1efe8b8fb4887b1f536adb?s=100&#038;d=mm&#038;r=g' srcset='https://secure.gravatar.com/avatar/82c981f1bcba842ca501873ac8e51efbfeea6b761a1efe8b8fb4887b1f536adb?s=200&#038;d=mm&#038;r=g 2x' class='avatar avatar-100 photo' height='100' width='100' itemprop="image"/></div><div class="saboxplugin-authorname"><a href="https://dissenttoday.net/author/saeedahameed/" class="vcard author" rel="author"><span class="fn">Saeeda Hameed</span></a></div><div class="saboxplugin-desc"><div itemprop="description"><p>The writer is the daughter of a Baloch missing person, Abdul Hameed Zehri.</p>
</div></div><div class="clearfix"></div></div></div><p>The post <a href="https://dissenttoday.net/urdu/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%af/">ایک بیٹی کی فریاد</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dissenttoday.net/urdu/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>صحافی اسلم بلوچ، توہین مذہب کا الزام، سندہ  گسٹاپو پولیس اور اہل خانہ کی ہراسگی </title>
		<link>https://dissenttoday.net/urdu/%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%b2%d8%a7%d9%85%d8%8c-%d8%b3/</link>
					<comments>https://dissenttoday.net/urdu/%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%b2%d8%a7%d9%85%d8%8c-%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Hasan Mujtaba]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 28 Apr 2023 17:24:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dissenttoday.net/?p=3656</guid>

					<description><![CDATA[<p>  گذشتہ ماہ مارچ  کی بیس تاریخ کو پولیس کی بھاری نفری ڈی ایس پی، ویمن پولیس انسپیکٹر مومل لغاری کی معیت میں میرپور خاص شہر کے محلے غریب آباد کے ایک  گھر میں   بغیر کسی وارنٹ گرفتاری یا وارنٹ تلاشی کے داخل ہوئی۔   گھر پر حاملہ  خاتون شبانہ بلوچ اور اسکی عمر [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://dissenttoday.net/urdu/%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%b2%d8%a7%d9%85%d8%8c-%d8%b3/">صحافی اسلم بلوچ، توہین مذہب کا الزام، سندہ  گسٹاپو پولیس اور اہل خانہ کی ہراسگی </a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><span style="font-weight: 400;"> </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">گذشتہ ماہ مارچ  کی بیس تاریخ کو پولیس کی بھاری نفری ڈی ایس پی، ویمن پولیس انسپیکٹر مومل لغاری کی معیت میں میرپور خاص شہر کے محلے غریب آباد کے ایک  گھر میں   بغیر کسی وارنٹ گرفتاری یا وارنٹ تلاشی کے داخل ہوئی۔   گھر پر حاملہ  خاتون شبانہ بلوچ اور اسکی عمر رسیدہ ساس، چار بچیاں  موجود تھی۔ ان سے سخت بدتمیزی کی گئی۔۔ </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;"> پولیس نے گھر کے کمروں میں آلماریوں میں سے سامان ایک ایک کرکے الٹ پلٹ کر نکال کر پھینکا۔ گھر کے سامان  کی توڑ پھوڑ کی، موبائیل فون چھین لیا، اور شبانہ  بلوچ کو لے گھسیٹ کر لے  گئی۔ یہ خاتون  صحافی اسلم بلوچ کی بھابھی تھیں ۔ اسی دن صحافی اسلم بلوچ قانون توہین مذہب کے الزامات میں کٹی ایف آئی آر کا سن کر کئی گھنٹے قبل تھانے پر گرفتاری پیش کر چکا تھا۔ صحافی اسلم بلوچ پر الزام تھا کہ اس نے اپنے فیس پر  بک ایک تصویر شیئر کی تھی جس میں  ہندو مذہب کے بھگوان ہنومان پر چہرہ عمران خان کا چپکا تھا۔ </span></p>
<p>&nbsp;</p>
<p><span style="font-weight: 400;">میرپور خاص شہر اور شہر سے باہر سندہ  سمیت ملک بھر میں خاص طور، ہر خاص و عام،اور دنیا بھر میں بلوچ کمیونٹی میں جو  جو بھی صحافی اسلم بلوچ کو جانتے تھے انہیں اس بات  پر کہ  اسلم بلوچ کی  توہین مذہب کے الزام میں گرفتاری  کہ  اس نے  مبینہ  طور ہندوئوں کے بھگوان ہنومان کی توہین کی تھی، پر نہ فقط انتہائی حیرت اور دکھ بھی ہوا (جسکا اظہار سوشل میڈیا پر بھی وسیع طور پر  ردعمل میں دیکھنے میں آیا) پر اسے  ناقابل اعتبار سمجھا گیا ۔ اسلم بلوچ کی توہین مذہب کے الزام میں گرفتاری پر انتہائی حیرت اور دکھ اس لیئے بھی کہ اسلم بلوچ ایک نظریاتی سیکیولر اور وسیع العمشرب شخص تھا جو ہر مذہب عقیدے کی تقریبات اور تہواروں میں شریک ہوتا۔ دو سال قبل اسلم بلوچ کی ہندو برادری کی ہولی منانے پر پریس کلب میرپور خاص کے کچھ مذہبی انتہاپسند صحافیوں اور شہریوں کے گروہ نے انپر الزامات لگائے تھے کہ اسلم بلوچ نے ہولی کا رنگ مسلمانوں کے مقدس نام  پر پھینکا۔  اور تھانے اور پریس کلب کا گھیرائو  کیا گیا تھا جو الزام بعد میں من گھڑت ثابت ہوا تھا۔ </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">اسلم بلوچ  کا حالیہ واقعے کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ ایک پرانی تصویر تھی جو کسی اور نے  انکے نام پر فیک فیس بوک اکائونٹس پر شیئر کی تھی۔ اسلم بلوچ نے تاہم فورن اپنی طرف سے وڈیو بناکر اس میں معافی مانگی بھی مانگی تھی۔                </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">لیکن پولیس پر سندہ مین حکمران پارٹی کے ایم پی اے گیانچند ، ایم پی اے  پونجو مل اور مقامی رمیش لال مالھی  کا دبائو تھا کہ کسی بھی صورت میں اسلم بلوچ کو گرفتار کیا جائے۔ پولیس نے  اسلم بلوچ کو فون کیا تو اسلم بلوچ نے جا کر اپنی گرفتاری پیش کی۔ پولیس نے توہین مذہب کے قوانین کے تحت سیکشن 195 </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">میں سندہ کے محکمہ داخلہ کی اجازت کے بغیرایف آئی آر کاٹتے مقدمہ درج کیا ۔ سندہ میں اب یہ قانون ہے کہ توہین مذہب یا توہین برگزیدہ شخصیات  کے الزامات میں ایف آئی ار سندہ کے محکمہ داخلہ کی طرف سے  تحقیقات کے بغیر درج  نہیں کی  جا سکتی۔ </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">لیکن پولیس  صرف اسلم بلوچ  کی گرفتاری پر نہیں رکی۔ پولیس بقول اسلم بلوچ کی بھابھی شانہ بلوچ کے  بغیر کسی وارنٹ گرفتاری  سلم بلوچ کے بھائی کے گھر  میں ڈی ایس پی اور ایس یچ  او غریب آباد امتیاز جونیجو اور ویمن پولیس اسٹیش مومل لغاری کی قیادت میں گھسی۔ پولیس ڈی ایس پی بار بار کہہ رہا تھا  کہ “آئی جی لائین پر ہے۔” گھر کے سامان کی توڑ پھوڑ کی۔ پولیس نے گھر میں موجود انکی چار کمسن بیٹیوں  کو ہراساں کیا۔</span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">   شبانہ بلوچ نے ایک وڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ایک پولیس والے نے  انکی ایک کمسن  بیٹی پر رائفل  تان لی جسکی وجہ سے انکی بیٹی ابھی تک بول نہیں پا رہی۔ آلماری سے  پولیس نے پچاس ہزار نقدی بھی لوٹ کی۔ انکی وجہ پو چھنے پر بھی پولیس  نے انکو خاموش رہنے کا کہا۔ گھر کے سامان کی توڑپھوڑ کی۔ انکے کرایہ داروں کو بھی ہراساں  کیا۔ جبکہ وہ شبانہ بلوچ  پولیس سے بار بار کہہ رہی   تھے  کہ نہ ہی اسلم بلوچ انکے گھر میں موجود ہے اور نہ ہی یہ اسلم بلوچ۔ کا گھر ہے۔ اسی وڈیو بیان میں شبانہ بلوچ نے یہ بھی کہا ہے  کہ پولیس انہیں گسیٹ کر تھانے لے گئی جبک انہیں نہ دوپٹہ پہننے دیا نہ برقعہ۔ </span></p>
<div style="width: 640px;" class="wp-video"><video class="wp-video-shortcode" id="video-3656-1" width="640" height="352" preload="metadata" controls="controls"><source type="video/mp4" src="http://gator4236.temp.domains/~dissentt/wp-content/uploads/2023/04/IMG_9621.mp4?_=1" /><a href="http://gator4236.temp.domains/~dissentt/wp-content/uploads/2023/04/IMG_9621.mp4">http://gator4236.temp.domains/~dissentt/wp-content/uploads/2023/04/IMG_9621.mp4</a></video></div>
<p><span style="font-weight: 400;">“پولیس نے اس طرح کاروائی کی جیسے اس گھر میں اسامہ بن لادن چھپا تھا،” ماضی قریب تک پاکستان کے واحد بلوچ نجی نیوز چینل ‘وش’ ٹی۔وی’ کے نمائندے اسلم بلوچ نے “ڈیسینٹ ڈیلی” کو واٹس آپ پر بات  چیت کے دوران بتایا۔ </span></p>
<p>&nbsp;</p>
<p><span style="font-weight: 400;">ادھر میرپورخاص ہندو پئنچایت کمیٹی پر یہ بات آ آشکار  ہونے پر اسلم بلوچ کیخلاف  بلکل بے بنیاد الزامات  پر ایف آئی آر کٹوائی گئی  ہے،   اور دیگر ہندو زعما جن میں پاکستان مائنریٹیز کمیٹی کے چیئر مین کرشن شرما اور سابق ایم این اے کش چند پاروانی بھی شامل ہیں،   کی مداخلت پر اسلم بلوچ پر سے الزامات واپس لے لیے گئے۔  جبکہ کنزیومر افیئرز کورٹ اور جڈیشل میجسٹریٹ نے اسلم بلوچ کیخلاف توہین مذہب کا مقدمہ جھوٹا گردان کر “سی لاس” طور  خارج کردیا۔ اور اسلم بلوچ بری قرار دیے گئے۔ </span></p>
<p><span style="font-weight: 400;"> اسلم بلوچ اگرچہ اب توہین مذہب کے مقدمے میں بری ہو چکے ہیں لیکن وہ اور انکے اہلیان  خانہ بھاوج، والدہ اور بھتیجیاں ابتک بہت خوفزدہ اور صدمے میں ہیں۔  اسلم بلوچ نے اس دکھ کا اظہار اس اظہار  کیا کہ سب کچھ انکے ساتھ سندہ میں پاکستان پیپلزپارٹی کے موجودہ دور حکومت میں ہوا ہے اور اس پارٹی کے اقلیتی رکن اور وزیر کی طرف سے ہوا ہے جبکہ انہوں نے ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق اور ان حقوق کی تلفیوں  میں اقلیتوں  کیساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔</span></p>
<p><span style="font-weight: 400;">میرپورخاص کے اکثر بلوچ اسلم بلوچ اور اسکے خاندان سمیت پاکستان پیپلزپارٹی کے قیام کے پہلے دن سے  اس پارٹی  کے حمایتی اور ووٹر رہے ہیں۔  اسلم بلوچ نے بتایا کہ “جب میں بیروزگار بھی تھا تو آصف زرادری جب جیل میں تھا تو اسکی کراچی کی عدالتوں میں ہر پیشی پر میرپور خاص سے بذریعہ ٹرین بغیر ٹکٹ سفر کر کر کراچی ان پیشیوں پر پہنچتا تھا۔ کیونکہ میں  واقعی آصف علی زرداری کو نیلسن منڈیلا سمجھتا تھا۔ ایک دفعہ میں  ٹرین میں بغیر سفر کرتے پکڑا بھی گیا تھا لیکن میرے  پاس پئسے نہ ہونے کے باوجود مجھے چھوڑ دیا گیا تھا۔”</span></p>
<p><span style="font-weight: 400;"> اسلم بلوچ قدرے  خوش نصیب نکلا لیکن اور کئی جن میں گھوٹکی کے  پروفییسر نوتن لال اور  ملتان کے پروفیسر  جنید حفیظ اتنے خوشنصیب نہیں جو توہین مذہب کے الزام میں ایک گزشتہ چار سال  عمر قید کاٹ رہے ہیں  اور دوسرے  کئی سالوں سے سزائے موت کے منتظر ہیں</span></p>
<p><span style="font-weight: 400;"> </span></p>
<div class="saboxplugin-wrap" itemtype="http://schema.org/Person" itemscope itemprop="author"><div class="saboxplugin-tab"><div class="saboxplugin-gravatar"><img decoding="async" src="https://dissenttoday.net/wp-content/uploads/2023/11/hasan-mujtaba.jpeg" width="100"  height="100" alt="" itemprop="image"></div><div class="saboxplugin-authorname"><a href="https://dissenttoday.net/author/hasanmujtaba/" class="vcard author" rel="author"><span class="fn">Hasan Mujtaba</span></a></div><div class="saboxplugin-desc"><div itemprop="description"><p>The writer is a poet and journalist in exile.</p>
</div></div><div class="clearfix"></div></div></div><p>The post <a href="https://dissenttoday.net/urdu/%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%b2%d8%a7%d9%85%d8%8c-%d8%b3/">صحافی اسلم بلوچ، توہین مذہب کا الزام، سندہ  گسٹاپو پولیس اور اہل خانہ کی ہراسگی </a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dissenttoday.net/urdu/%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%8c-%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b0%db%81%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%b2%d8%a7%d9%85%d8%8c-%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		<enclosure url="http://gator4236.temp.domains/~dissentt/wp-content/uploads/2023/04/IMG_9621.mp4" length="0" type="video/mp4" />

			</item>
		<item>
		<title>جی۔ایم سید: سب سے سینئر محب وطن اور غدار</title>
		<link>https://dissenttoday.net/features/%d8%ac%db%8c%db%94%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c%d8%af-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%a8-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%af%d8%a7%d8%b1/</link>
					<comments>https://dissenttoday.net/features/%d8%ac%db%8c%db%94%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c%d8%af-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%a8-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%af%d8%a7%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Hasan Mujtaba]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 12 Mar 2023 19:34:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Features]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dissenttoday.net/?p=2231</guid>

					<description><![CDATA[<p>(1904-1995)  غلام مرتضی سید باالمعروف  جی۔ ایم سید  تحریک پاکستان کے  اہم رہنما اور پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی اسی تخلیق کی ریاست کے تادم مرگ قیدی بھی تھے تو پاکستان سے سندہ کی  علحدگی پسند  تحریک کے بانی بھی۔  جدید سندھی قومپرستی کے نظریہ دان بھی۔ انہوں نے کہا تھا:“ پانچ ہزار سالہ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://dissenttoday.net/features/%d8%ac%db%8c%db%94%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c%d8%af-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%a8-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%af%d8%a7%d8%b1/">جی۔ایم سید: سب سے سینئر محب وطن اور غدار</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>(1904-1995)  غلام مرتضی سید باالمعروف  جی۔ ایم سید  تحریک پاکستان کے  اہم رہنما اور پھر قیام پاکستان کے بعد اپنی اسی تخلیق کی ریاست کے تادم مرگ قیدی بھی تھے تو پاکستان سے سندہ کی  علحدگی پسند  تحریک کے بانی بھی۔  جدید سندھی قومپرستی کے نظریہ دان بھی۔ انہوں نے کہا تھا:“ پانچ ہزار سالہ پرانی سندہ مں سے پاکستان  ایک گزرتا ہوا جلوس ہے جبکہ سندہ ایک تاریخی فطری قدرتی وطن ہے اور  قائم و دائم ہے۔”</p>
<p>وہ کئی کتابوں کے مصنف ( جن میں سے کچھ کتابیں زیر بندش) تھے اور  شاید پاکستان میں وہ پہلے مصنف تھے جنکی مذاہب  عالم پر  ایک تالیف اور تصنیف شدہ کتاب “جئین ڈٹھو آہ موں” پر پابندی لگی۔ ان پر ملائوں اور پیروں و مشائخ کی طرف سے کفر کے فتوے بھی لگے۔  جی ایم سید سب سے پہلے رہنما تھے جنہوں نے مل پاکستان میں مذہبی شدت پسندی کے اُبھار کی پیشنگوئی انیس سو پچاس کی دہائی میں کردی تھی۔ اور انیس سو نوے کی دہائی میں سابقہ سویت یونین ٹوٹنے کے فوری بعد اقوام متحدہ کی از سر نو تشکیل اور سرمائیدارانہ بلاک اور کمیونسٹ بلاکوں میں بٹی دنیا میں روحانی ملکوں کے بلاک قائم کرنے کی بھی بات کی تھی ان کی موت بھی طویل نظر بندی کے دوران قیدو بند کی حالت میں ہوئی۔ انکی قید و نظر بندی کے وقفہ وقفہ طویل مدتیں نیلسن مانڈیلا کی معیاد قید سے بھی زیادہ تھیں۔ یہ ”اعزاز‘‘ بھی بنظیر بھٹو کی حکومت کو جاتا ہے کہ جس نے باوجود اپیلوں کے جناح اسپتال کراچی میں بستر مرگ پر پڑے چورانوے سالہ علیل اسیر کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ </p>
<p>اسی طرح جی ایم سید جو آخری بار نوازشریف حکومت میں جنوری انیس سو بانوے  میں نظربند کر دیئے گئے وہ اپریل1995ء تک تادم مرگ نظربند رہے۔</p>
<p> دوران نظربندی انہوں نے تصنیف و تحقیق کا کام جاری رکھا اور تقریباً ساٹھ کتابیں تصنیف کیں۔ انیس سو سڑسٹھ میں اپنی نظربندی کے دوران اپنے دوستوں ساتھیوں اور واقف کاروں پر اپنی تصنیف’’جنب گذرایم جن سیں‘‘ (جنکے ساتھ عمر گزاری میں نے) میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں:’’ مارشل لا کا نفاذ ہوا تو پھر قید و نظربندی کا قرعہ فال میرے نام نکلا، نہ میں نے اسمگلنگ کی تھی اور نہ عہدوں کا طلبگار رہا تھا نہ پرمٹ لیکر املاک میں اضافہ کیا تھا، نہ ہی وطن سے غداری کی تھی اور نہ ہی میں پاکستان کا مخالف رہا تھا بلکہ ایک حد تک تو اس کے (پاکستان کے) قیام میں میرا خاص ہاتھ رہا تھا، سندھ اسمبلی میں پاکستان کی قرارداد میں نے ہی منظور کرائی تھی، سندھ میں مسلم لیگ کی تحریک کو زور پکڑوانے میں بھی جتنا میرا بس چلتا تھا ہر کوشش کی تھی، اس کے باوجود بھی مجھے ساڑھے سات سالوں تک نظربند کردیا گیا، اس کیلئے میرا کوئی اور قصور تو نہ تھا ماسوائے اس کے کہ میں ون یونٹ کا مخالف تھا، میں سندھ کے حقوق کی حفاظت کا حامی تھا۔</p>
<p> اس کا غیروں کو پتہ گر نہیں بھی تھا مگر اپنوں کو تو تھا&#8221; یعنی غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی دیوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری۔&#8221;قبل تقسیم سندہ میں ایک سیاسی رہنما اور بعد میں آل انڈیا مسلم لیگ سندہ کے صدر کی حیثیت میں جی ایم سید انتہائی مقبول تھے۔ جب انہوں نے  عبداللہ ہارون کے ہمراہ  محمد علی جناح کا جلسہ نیپئر روڈ پر منعقد کیا تو سندہ میں  لوگ مسٹر جناح کو بہت کم جانتے تھے جتنا جی ایم سید اور عبداللہ ہارون کو جانتے تھے۔ یہ بات مجھے لیاری  کراچی میں بلوچ تاریخدان یوسف نسقندی نے  ہندوستان کی  تقسیم  اور پاکستان ہندوستان دو الگ ملک بننے کے پچاس برس مکل ہونے یا انکی گولڈن جوبلی کے موقع پر ایک انٹرویو کے دوران بتائی تھی۔ انہی دنوں وہ مسجد منزل گاہ سکھر میں ہندو مسلم بلوے  کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ دوسرے تھے ایوب کھڑو،شاید  علی محمد راشدی بھی۔ یہ تنازع سکھر کے سادھو بیلو میں ایک مندر پر شروع ہوا تھا جس میں مسلمانوں کا دعوا تھا کہ یہ مسجد ہے جبکہ ہندوئوں کا دعوا تھا یہ مندر کی جگہ تھی۔ سینکڑوں  ہندو قتل ہوئے تھے اور ایوب کھوڑو سمیت کئی سینکڑوں مسلمان گرفتار ہوئے تھے۔ ایوب کھوڑو  کی گرفتاری کے بعد مسجد منزل گاہ ایجیٹیشن  کی سربراہی جی ایم سید نے سنبھالی تھی۔ مسجد منزل گاہ فسادات عام طور  صوفی مزاج  والے سندہ میں ہندو مسلم نفاق اور فرقہ واریت کی ایک طرح سنگ بنیاد تھے۔</p>
<p> جی۔ایم سید بہرحال ساری عمر مسجد منزل گاہ اور قیام پاکستان میں اپنے کردار پر نادم رہے اور اسے اپنا گناہ عظیم سمجھتے رہے اور بارہا اسکا کھلے عام اعتراف  بھی کرتے رہے تھے۔       یہ وہی جی ایم سید تھے جو پاکستان کے بانی کے قتل کی افواہیں سن کر دھاڑیں مار کر روئے تھے۔ غلام مرتضی سید نے برصغیر مییں سب سے پہلے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کی قرارداد سندھ اسمبلی میں اکثریت سے منظور کروائی تھی۔انہوں نے اپنی سیاست کا تمام محور و قبلہ سندھ کو بنایا اور مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد تیئس مارچ انیس سو تہتر کو انہوں نے’’سندھو دیش‘‘ کا نعرہ لگایا۔ انہوں  نے اپنے تصور سندھو دیش پہ  ایک کتاب “سندھودیش  چھو آئیں چھا لائی” ( سندھو دیش کیوں اور کس لیے ؟) تحریر کی جسکا انگریزی  میں بھی ترجمہ “سندھو دیش: اے نیشن ان چین” کے نام سے ہوا ہے</p>
<div class="saboxplugin-wrap" itemtype="http://schema.org/Person" itemscope itemprop="author"><div class="saboxplugin-tab"><div class="saboxplugin-gravatar"><img loading="lazy" decoding="async" src="https://dissenttoday.net/wp-content/uploads/2023/11/hasan-mujtaba.jpeg" width="100"  height="100" alt="" itemprop="image"></div><div class="saboxplugin-authorname"><a href="https://dissenttoday.net/author/hasanmujtaba/" class="vcard author" rel="author"><span class="fn">Hasan Mujtaba</span></a></div><div class="saboxplugin-desc"><div itemprop="description"><p>The writer is a poet and journalist in exile.</p>
</div></div><div class="clearfix"></div></div></div><p>The post <a href="https://dissenttoday.net/features/%d8%ac%db%8c%db%94%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c%d8%af-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%a8-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%af%d8%a7%d8%b1/">جی۔ایم سید: سب سے سینئر محب وطن اور غدار</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dissenttoday.net/features/%d8%ac%db%8c%db%94%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c%d8%af-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d8%a8-%d9%88%d8%b7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ba%d8%af%d8%a7%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کی بہادر افوج کی &#8216;بہادری&#8217; اور ماجد حیدری   جیسے نہتے شہریوں کی  گمشدگیاں</title>
		<link>https://dissenttoday.net/opinion/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7/</link>
					<comments>https://dissenttoday.net/opinion/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Hasan Mujtaba]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 24 Feb 2023 12:25:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Opinion]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dissenttoday.net/?p=1849</guid>

					<description><![CDATA[<p>دو ہزار پانچ سے پاکستان کی بہادر افواج اور اسکی انٹیلیجنس ایجنسیوں اور آئی ایس آئی نے سندہ کے سینکڑوں نوجوان غائب کیے ہیں، غائب کرکے انپر بہیمانہ تشدد کیا ہے، اپنی تحویل میں بذریعہ انکو تشدد قتل کیے ہیں۔ افوج پاکستان اور اسکی ایجینسیاں بہادر اتنی کہ آج تک اعتراف تک نہیں کیا کہ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://dissenttoday.net/opinion/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7/">پاکستان کی بہادر افوج کی &#8216;بہادری&#8217; اور ماجد حیدری   جیسے نہتے شہریوں کی  گمشدگیاں</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>دو ہزار پانچ سے  پاکستان کی بہادر افواج اور اسکی انٹیلیجنس ایجنسیوں اور آئی ایس آئی<br />
 نے سندہ کے سینکڑوں  نوجوان غائب کیے ہیں، غائب کرکے  انپر بہیمانہ  تشدد کیا ہے،  اپنی تحویل میں بذریعہ انکو تشدد قتل  کیے ہیں۔ افوج پاکستان اور اسکی ایجینسیاں بہادر اتنی کہ آج تک اعتراف تک نہیں  کیا کہ ان سینکڑوں افرا کو انہوں نے ہی اغوا کیا ہے۔ اور نہ ہی ان میں غائبشدگان میں  سے ایک پر بھی کسی عدالت میں کوئی جرم ثابت ہوا ہے اور نہ ہی کسی عدالت میں انکو پیش بھی کیا گیا ہے۔ تاحال پاکستان کے  ان مغوی شہریوں  میں اٹھارہ سال سے کم عمر نوجوانوں سے لیکر نوجوان ، بوڑہے ، پیشے کے لحاظ سے اساتذہ، پروفیسر،ڈاکٹرز، انجینیئر، ادیب، شاعر، پبلشر،صحافی، سیاسی و سماجی کارکن شامل ہیں۔ ان میں کئی اپنی  نسل کے بہترین دماغ ہیں، تھے۔ </p>
<p>گمشدگیوں کا تازہ شکار  انجنئر ماجد حیدری ہے۔ ماجد حیدری عراق اور دبئی میں اپنی انجینیئرنگ کی  خدمات سرانجام دے چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں محض تارک وطن سندھیوں کی سماجی خدمات میں مصروف  رہا تھا۔  ماجد کو  کراچی سے اٹھا کر غائب کردیا گیا ہے۔ </p>
<p>2005 سے آجتک جتنے بھی سندھی نوجوان اٹھا کر غائب کردے گئے ہیں،قومی خزانے سے کروڑہا روپے ان ویگو سوار اجل کے  بے وردی وردی پوش فرشتوں پر  خرچ کیے  جا رہے ہیں۔ کن کا خیال ہے ہر جی او سی کے صوابدید پر ایک  بجٹ ہوتا ہے “اینٹی اسٹیٹ عناصر” کی سرکوبی کے نام پر یہ  بجٹ ہضم کر نے کو زیادہ تر بیگنہہ نوجوان اٹھائے جار ہے ہیں۔ویسے گھر کی بات  گھر میں تو  کی جاسکتی ہے نہ، جرنیلوں کرنیلوں سے زیادہ کون ملک مخالف قوتیں ہو سکتی ہیں؟</p>
<p>ان گمشدگان سے کیا اعترافات ہوئے؟ اسکی بنیاد پر دفاعی حکمت عملی اور پالیسی میں کیا تبدیلیاں لائی گئی؟ کن کو سزائیں ہوئیں ؟ صفر پلس صفر ۔کیوں کہ  یہ سب جھوٹ  اور ریاستی دہشتگری کا کاروبار ہے۔ سندہ کے عوام میں خوف و دہشت کی فضا قائم  رکھ کر حکمرانی  قائم رکھنی ہے کہ وہاں ساری حکمرانی  کرنلوں کے ہاتھوں  میں ہے۔</p>
<p>اب بہت  ہو چکی۔  فوج، انجینئر ماجد حیدری سمیت تمام گمشدگان فوری رہا کرو۔ گمشدگییوں   کے دوران قتل ہونیوالوں،  تشدد کے دوران  معذور ہونیوالوں، تشدد میں ذہنی توازن کھو بیٹھنےوالوں  کے خاندانوں   کو معاوضہ جات ادا کریں۔  جبری یا غیر رضاکارانہ نفاذی گمشدگیاں اغوا کا سنگین  جرم ہے اور ان جرائم میں ملوث افسروں اور سپاہیوں کو گرفتار کیا جائے مقدمے چلا کر سزائیں دی جائیں۔ ۔ دیر یا سویر۔ یہ حساب تو ہونا ہے۔ کیونکہ تم کتنے بھی طاقتور اور با اختیار ہو  تمہارے جنازے بند کمروں میں  چھپ کر ر پڑہے جاتے رہیں گے۔ مشرف کے انجام سے  عبرت حاصل کرو۔ ملک تمہارے ایسے انسانیت کے خلاف جرائم کی وجوہات پر “غائبستان” بنا ہوا ہے۔ انٹیلجنس ریپبلک آف غائبستان۔</p>
<div class="saboxplugin-wrap" itemtype="http://schema.org/Person" itemscope itemprop="author"><div class="saboxplugin-tab"><div class="saboxplugin-gravatar"><img loading="lazy" decoding="async" src="https://dissenttoday.net/wp-content/uploads/2023/11/hasan-mujtaba.jpeg" width="100"  height="100" alt="" itemprop="image"></div><div class="saboxplugin-authorname"><a href="https://dissenttoday.net/author/hasanmujtaba/" class="vcard author" rel="author"><span class="fn">Hasan Mujtaba</span></a></div><div class="saboxplugin-desc"><div itemprop="description"><p>The writer is a poet and journalist in exile.</p>
</div></div><div class="clearfix"></div></div></div><p>The post <a href="https://dissenttoday.net/opinion/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7/">پاکستان کی بہادر افوج کی &#8216;بہادری&#8217; اور ماجد حیدری   جیسے نہتے شہریوں کی  گمشدگیاں</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dissenttoday.net/opinion/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%ac-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عطار کا نیوٹرل لونڈا</title>
		<link>https://dissenttoday.net/opinion/%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%d9%b9%d8%b1%d9%84-%d9%84%d9%88%d9%86%da%88%d8%a7/</link>
					<comments>https://dissenttoday.net/opinion/%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%d9%b9%d8%b1%d9%84-%d9%84%d9%88%d9%86%da%88%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Salman Haider]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 21 Jan 2023 00:12:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Editor's Picks]]></category>
		<category><![CDATA[Opinion]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dissenttoday.net/?p=1315</guid>

					<description><![CDATA[<p>اجمل کمال نے کہیں کہا تھا کہ پچھلے پچاس سال میں کراچی کے لکھنے والے شہر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے کوئی مضمون ایسا نہیں لکھ سکے جس میں میر صاحب کا مژگاں تو کھول والا مصرعہ نقل نہ کیا گیا ہو۔ میں اجمل صاحب سے اختلاف تو کیا اتفاق کرنے کی جرات بھی [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://dissenttoday.net/opinion/%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%d9%b9%d8%b1%d9%84-%d9%84%d9%88%d9%86%da%88%d8%a7/">عطار کا نیوٹرل لونڈا</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>اجمل کمال نے کہیں کہا تھا کہ پچھلے پچاس سال میں کراچی کے لکھنے والے شہر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے کوئی مضمون ایسا نہیں لکھ سکے جس میں میر صاحب کا مژگاں تو کھول والا مصرعہ نقل نہ کیا گیا ہو۔ میں اجمل صاحب سے اختلاف تو کیا اتفاق کرنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا لیکن میرا خیال ہے کہ میر نے پاکستان کے بارے میں جو شعر کہے ہیں اس میں مژگاں والے مصرعے سے زیادہ مقبول مصرعہ وہ ہے جو انہوں نے عطار کے بجائے اس کے لونڈے سے نسخہ بندھوانے کے بعد لکھا تھا۔</p>
<p>یہ مصرعہ عام طور پر ہمارے سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اسی نا قابل اشاعت تعلق کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے &#8216;تڑک کر کے ٹٹ جانے&#8217; کو پچھلے کچھ مہینوں سے اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ عمران خان جو اسٹبلشمنٹ کے مبینہ طور پر &#8216;نیوٹرل&#8217; ہو جانے سے پہلے اس بات کے قائل بلکہ اس پر بضد تھے کہ ان کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے جب تک حکومت میں رہے سرعام فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کا اعلان اور نجی محفلوں میں اپنے ناگزیر ہونے کا دعوی کرتے رہے۔</p>
<p>جب تحریک عدم اعتماد پیش کی جا چکی تو ناگزیر وزیراعظم نے نیوٹرل نہ ہونے کی صورت میں آرمی چیف کو تاحیات ایکسٹینشن دینے کی پیش کش بھی کی۔ معاملات بہرحال طے نہیں پا سکے اور فوج نے اس حکومت کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیا جسے وہ اس سے پہلے کی کئی حکومتوں کی طرح بڑے چاو سے لائی تھی۔ </p>
<p>عمران خان صاحب یہ جانتے تھے کہ فوج جتنی ان کے حق میں نیوٹرل تھی اب اتنی ان کے خلاف نیوٹرل ہے اس لیے انہوں نے نیوٹرل ہونے کو طعنہ بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ دوسری طرف اپوزیشن اتحاد کو بھی اندازہ تھا کہ نواز شریف کی سزا کی معطلی اور پاکستان سے چلے جانے کا موقع دینے اور عمران خان صاحب کی حکومت سے گھریلو ناچاقی کے باوجود مسلم لیگ اور اس کے لواحقین سے فوج کے تعلقات اتنے اچھے بہرحال نہیں ہوئے کہ عمران خان کی تنقید کے جواب میں وہ فوج کا دفاع کرنے لگے۔ سو ماضی کی اپوزیشن اور بعد میں حکومت بن جانے والے اتحاد نے خاموشی اختیار کیے رکھی فوج نیوٹرل ہونے کے دعوے کی وجہ سے کچھ بوک نہیں سکتی تھی اور ابن انشاء مستعار لیا جائے تو پانی پت کی چوتھی جنگ میں ایک طرف ابراہیم لودھی تھا اور دوسری طرف کوئی نہیں تھا۔ </p>
<p>خان صاحب بمقابلہ کوئی نہیں کے اس میچ میں میڈیا کی ساری توجہ تو خان صاحب کی طرف رہی لیکن خان صاحب لانگ مارچ میں وہ رونق نہ لگا سکے جس کی توقع انہیں اور ان کے چاہنے والوں کو تھی۔ نتیجہ یہ کہ لانگ مرچ دھرنے میں نہیں بدلا۔ عمران خان صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر کے پلٹ آئے اور فوج کے عمران خان کے خلاف نیوٹرل ہو جانے کے خیال کو تقویت ملی۔<br />
اسمبلیاں توڑنے کا عمل طول پکڑتا گیا جب تک پنجاب اسمبلی نہیں ٹوٹی عمران خان کی اتحادی جماعت کے فوج کے اعلی عہدے داروں سے پنڈی میں ملاقاتوں کی خبریں آتی رہیں۔ </p>
<p>اب جب کہ دو صوبوں کی اسمبلیاں ٹوٹ چکی ہیں، تحریک انصاف قومی اسمبلی میں واپسی کا اعلان کر چکی ہے، اسپیکر تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے استعفوں کی ایک کھیپ منظور کر چکے ہیں، الیکشن کمیشن عمران کے خلاف ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے۔ نیوٹرل ہونے یا نہ ہونے کی وہ بے کار بحث جاری ہے جس میں شریک ہر فریق یہ کہتا ہے کہ فوج کو نیوٹرل ہونا چاہئیے اور ہر فریق یہ چاہتا ہے کہ فوج نیوٹرل نہ رہے بلکہ اس کی حمایت کرے۔ وجہ اس بحث کے بے کار ہونے کی یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں کہیں یا نہ کہیں یہ تسلیم کر چلی ہیں کہ وہ فوج کو راضی کیے بغیر حکومت میں آ نہیں سکتیں آ جائیں تو چلا نہیں سکتیں چلا لیں تو بچا نہیں سکتیں۔ </p>
<p>قصہ مختصر یہ کہ کم سے کم مستقبل قریب میں عطار کے اس نیوٹرل لونڈے سے دوا لینے کا یہ سلسلہ اسے طرح چلتا نظر آ رہا ہے۔ یوں بھی اس بھوت کی طرح جو قبرستان میں بیٹھا اپنے بچے کو سمجھا رہا تھا کہ انسان ونسان کچھ نہیں ہوتا سب باتیں بنی ہوئی ہیں ہمیں یہ مان لینا چاہئیے کہ نیوٹرل ویوٹرل کچھ نہیں ہوتا سب باتیں ہیں جو ہوتی رہیں گی۔</p>
<div class="saboxplugin-wrap" itemtype="http://schema.org/Person" itemscope itemprop="author"><div class="saboxplugin-tab"><div class="saboxplugin-gravatar"><img alt='Salman Haider' src='https://secure.gravatar.com/avatar/9aca28c2e04eb9b9f9c898f5c321ed8f1700640e68ab5e8d609a277658b3186a?s=100&#038;d=mm&#038;r=g' srcset='https://secure.gravatar.com/avatar/9aca28c2e04eb9b9f9c898f5c321ed8f1700640e68ab5e8d609a277658b3186a?s=200&#038;d=mm&#038;r=g 2x' class='avatar avatar-100 photo' height='100' width='100' itemprop="image"/></div><div class="saboxplugin-authorname"><a href="https://dissenttoday.net/author/salmanhaider/" class="vcard author" rel="author"><span class="fn">Salman Haider</span></a></div><div class="saboxplugin-desc"><div itemprop="description"><p>The writer is a Pakistani poet and activist based in Canada.</p>
</div></div><div class="clearfix"></div></div></div><p>The post <a href="https://dissenttoday.net/opinion/%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%d9%b9%d8%b1%d9%84-%d9%84%d9%88%d9%86%da%88%d8%a7/">عطار کا نیوٹرل لونڈا</a> appeared first on <a href="https://dissenttoday.net">Dissent Today</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dissenttoday.net/opinion/%d8%b9%d8%b7%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c%d9%88%d9%b9%d8%b1%d9%84-%d9%84%d9%88%d9%86%da%88%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
